رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“دعا عبادت کا مغز (اصل اور خلاصہ) ہے۔”سنن الترمذي (3371)مسند أحمد (4/267)
“دعا عبادت کا مغز (اصل اور خلاصہ) ہے۔”سنن الترمذي (3371)مسند أحمد (4/267)
اے ابن آدم! تم صرف چند دن ہو، جب ایک دن گزر جاتا ہے تو تمہارا ایک حصہ ختم ہو
“روزہ ڈھال ہے۔ پس جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ نہ بےہودہ بات کرے اور نہ
روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی باطنی اصلاح کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔
نیکی کے کسی بھی کام کو حقیر مت سمجھو، چاہے وہ یہ ہو کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی
جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں، اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور حساب
نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص “اِمَّعَة” (لائی لَگ) نہ بن جائے، کہ جدھر کی ہَوا ہو اُدھر چل پڑے
(الزهد لأبي داؤد : ١٣٣
جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے جنگ کرتا ہے، (لوگوں کو) عصبیت کی دعوت دیتا ہے یا عصبیت کی بنیاد پر غصے میں آتا ہے تو اس کا قتل ہو جانا جاہلیت کی طرح ہے۔
ابن ماجہ:3948